Monday, 4 November 2024

عسق بے مہذب

اس وقت مری میں شدید برف باری ہو رہی تھی جب وہ اپنی کلاس میں بیٹھی کھڑکی سے جھانک رہی تھی۔ کالج سے کچھ
فاصلے پر سڑک پر چلتے لوگ نمایاں نظر آرہے تھے ۔۔۔ سب لوگ برف باری سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ سڑک
کی دونوں جانب درختوں پر پڑھی برف یوں معلوم ہوتی جیسے کوئی سفید چادر تنی ہو۔۔۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کو برف
کے گولے بنا کر مار رہے تھے۔۔۔ وہ بڑی دلچسپی سے یہ سب مناظر دیکھ کر خوش کم دکھی زیادہ ہورہی تھی، جب اس کی
کلاس فیلو باہر اس کا انتظار کرتے ہوئے اندر آئی۔
"نائگا۔۔۔ آج کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں ؟ میں کب سے تمہار اویٹ کر رہی ہوں۔۔۔ چلو نیچے چلتے ہیں۔
"
سمیرا نے اس کا ہاتھ تھاما اور زبردستی اسے باہر لے گئی ۔۔۔ نائکا کلاس ون سے مری کے ایک بورڈنگ سکول میں رہی
تھی لیکن میٹرک کے بعد اسے سکول چھوڑ کر کالج آنا پڑا۔ ایک ہفتہ پہلے ہی اس کی ایف۔ایس۔ سی کی کلاسز اسٹارٹ
ہوئی تھیں۔ مہینے میں دو تین بار وہ اسلام آباد کا چکر ضرور لگاتی۔
بتاؤ، کیا کھاؤ گی ؟ سمیرا اس کا ہاتھ تھامے کیفے ٹیریالے آئی۔ "
" مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔اگر تمہیں کچھ کھانا ہے تو کھاسکتی ہو۔
"
نائکا نے قدرے بے رخی سے کہا اور گردن دوسری جانب پھیر لی۔
آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ جب دیکھو کھڑکی کے ساتھ ہی چپٹی رہتی ہو۔۔۔اتنے سالوں سے مری میں رہ رہی "
" ہو پھر بھی برف باری ایسے دیکھتی ہو گویا پہلی بار دیکھ رہی ہو۔
سمیرا نے حیرت سے پوچھا۔ اسے نائکا کی بے رخی بہت ناگوار گزری تھی۔
میں صرف برف دیکھنے کے لیئے نہیں مرتی۔ " نائکا نے سابقہ لہجے میں کہا۔ وہ سمیرا کا چہرہ نہیں دیکھ رہی تھی۔
"
اچھا۔ تو پھر کس پہ مرتی ہو ؟ بتاؤ۔۔۔ "سمیرا اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر نا سکا جو اہا کچھ نہیں بول پائی۔
"
نائگا۔۔۔ گزرا ہوا وقت کبھی بھی واپس نہیں آسکتا۔۔۔ پلیز اب تم بھی بھول جاؤ سب کچھ ۔۔۔ زندگی بہت حسین '
ہے اسے ایسے ضائع مت کرو، پرانی یادیں نئے لوگوں کے ساتھ تازہ کرو۔۔۔ وہ سب کرو جو تم کرنا چاہتی تھی اپنی دنیا چند
لوگوں تک محمد ور نہ کر رکھو۔۔۔ اور اچھی یادوں کو یاد کر کے خوش ہوا جاتا ہے نا کہ مایوس پلیز بدلو خود کو ۔ "سمیرا نے نرم
لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
کبھی کبھی بہت اچھی یادیں بھی بہت بری لگتی ہیں۔۔۔ جنہیں یاد کر کے صرف تکلیف ہوتی ہے میں کیسے بھول جاؤں
انہیں۔۔۔ میری زندگی سے جڑی ہر چیز مجھے ان کی یاد دلاتی ہے۔ وہ بورڈنگ سکول، وہ چرچ جس کے لان میں ہم کھیلتے
تھے ، یہ برف جس پہ ہم ایک دوسرے سے لڑتے تھے ، وہ سڑکیں جہاں ہم ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے تھے، وہ گھر
جہاں ہم اتنے سالوں سے ایک ساتھ رہے تھے ، شاید موت سے پہلے میں یہ سب نہیں بھول سکتی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔"
"نائکا کی آنکھوں کے گوشے نم ہو چکے تھے اور ناک سرخ ہو رہی تھی۔ مری کا کونہ کونہ ایک ساتھ دیکھا تھا پھر مری میں
رہتے ہوئے وہ کیسے ان کو بھول سکتی تھی۔
"
پتہ نہیں ان
کو تم یاد بھی ہو گی یا نہیں، اتنے سالوں میں تو ان کو مری بھی بھول چکا ہو گا۔۔۔نئے دوست مل گئے ہوں
گے ، اور سٹیفنس تو ویسے بھی تم سے بڑا ہے ، دو تین سال۔۔۔ کراچی جانے کے بعد جلد ہی اپنی نئی دنیا میں مصروف ہو گیا
ہو گا۔ "سمیرا
نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ لوگ مجھے کبھی نہیں بھول سکتے، مجھے پورا یقین ہے وہ لوگ بھی مجھے بہت یاد کرتے ہوں گے۔۔۔ان کی زندگی میں "
چاہے جتنے مرضی نئے لوگ آجائیں وہ مجھے کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔۔۔ مجھے یاد ہے جب ان کی نانوان کو زبردستی اپنے
ساتھ کراچی لیکر گئی تھیں، بہت روئے تھے دونوں۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ایڈجسٹ کیا ہو گا ان لوگوں نے خود کو۔۔۔ نئی جگہ
نئے ماحول میں۔ "نائکا کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ موتیوں کی مانند گرنے لگے تھے۔
نا ئگا۔۔اچھے کی امید رکھو انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، اگر اللہ نے چاہا تو وہ لوگ کبھی نہ کبھی واپس آجائیں"
گے۔۔۔ایسے رونے کا کوئی فائدہ نہیں، بس دعا کیا کرو کہ وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں۔۔۔ چلواب کلاس میں چلتے ہیں
لیکچر اسٹارٹ ہونے والا ہے۔ "سمیرا نے اس کے آنسو پونچھے اور اپنی نشست سے اٹھی۔ نائکا نے بھی اثبات میں سر ہلایا
اور سمیرا کے ساتھ کیفے ٹیریا سے باہر چلی گئی۔
سترہ سالہ محمد عیسی علی جو اپنی گوری چمکتی دھمکتی رنگت لئے اپنی در میانی مگر روشن پیشانی پہ نرم سیاہ بال جو دھوپ میں
ڈارک براؤن شیڈ دیتے تھے سر کائے بڑے سے لاؤنج میں صوفے پہ بیٹھا تھا۔ وہ اپنی گہری شربتی لبی آنکھوں سے
سامنے بیٹھے شخص جو کہ اس کے والد محترم تھے، کو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل گھور رہا تھا۔ کچھ بولنا چاہتا تھا مگر ہمت
ساتھ نہیں دے پارہی تھی۔ بالآخر سر جھٹک کر اس نے بڑی ہمت باندھی اور اپنے لب کھولے۔



No comments:

Post a Comment

Einstein Turned Down Israel Presidency

 Did you Know🤔 As a Nobel Prize-winning physicist and the creator of the world's most famous equation, Albert Einstein had an impressiv...